19 اکتوبر 2012 - 20:30

افغانستان میں حکومتی فورسز اور طالبان کے مابین جاری مختلف جھڑپوں میں مزید 24 افغان فوجی اور 6 طالبان ہلاک ہوگئے –

ابنا: غیرملکی خبررسان ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے صوبۂ ہلمند کے ترجمان احمد زیرک نے آج کہا کہ افغان پولیس کے 6 افسروں کو انکے اپنے ساتھیوں نے  زہرکھلانے کے بعد فائرنگ کرکے قتل کردیا - زیرک کے مطابق یہ واقعہ ہلمند کے گریشک میں ہوا اور اس سلسلے میں ایک پولیس افسر کو حراست میں لے لیا گیا –طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعوی کیا کہ اس میں 8 پولیس افسر ہلاک ہوگئے –ادھرافغانستان کے صوبۂ خوست کے پولیس سربراہ نے بھی اعلان کیا کہ پولیس کی وردی میں ملبوس ایک شخص نے خوست کے "زازای میدان" علاقے میں تین پولیس افسروں کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا – طالبان کے ترجمان ذبیح ا۔۔۔ مجاہد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آور کا تعلق طالبان سے تھا –دوسری جانب طالبان نے افغانستان کے دوسرے علاقوں میں مزید 15 افغان اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے –ہماری پشتو سروس کے مطابق طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے آج دعوی کیا کہ صوبۂ زابل کے لورک علاقے میں افغان فوج کی ایک گاڑی کو سڑک کے کنارے نصب بم سے نشانہ بنایاگیا جسکے نتیجے میں 5 فوجی ہلاک ہوگئے – احمدی نے اسی طرح دعوی کیا کہ کاپیسا صوبے کے غشی علاقے میں بھی افغان فوج کی ایک گاڑی کے الٹنے کے باعث چار فوجی ہلاک ہوگئے –ادھر طالبان کے ایک اور ترجمان ذبیح ا۔۔۔ مجاہد نے بھی اعلان کیا کہ افغانستان کے مشرق میں واقع صوبۂ لوگر میں طالبان نے اافغان فوج کے خلاف دو الگ الگ حملوں میں انکی دو گاڑیوں کو تباہ کرکے 6 فوجیوں کو ہلاک کیا-دوسری جانب افغانستان کی وزارت داخلہ نے بھی آج اعلان کیا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران افغانستان کے مختلف علاقوں میں ہونیوالی جھڑپوں میں 6 طالبان ہلاک ہوئے ہیں جبکہ افغان پولیس نے بھی آج افغانستان کے شمال میں طالبان کے ایک اعلی کمانڈر کی گرفتاری کی خبر دیتے ہوئے اعلان کیا کہ نیٹو اور افغان پولیس کی ایک مشترکہ کاروائی میں قندوز صوبے میں طالبان کمانڈر ملا عبد الرحمان کو گرفتار کیا گیا -

.......

/169